Monday, October 1, 2018

پھر۔۔۔ ہم نے ترقی کرلی



ایک زمانہ ہوتا تھا جب پورے محلے میں ایک یا دو وائر والے فون ہوا کرتے تهے
دس سال بعد فون لگنا خوش نصیبی کی علامت اور تعلقات کی بدولت ہی ممکن تها
اس دور میں گاڑیاں کم ہوتی تھیں، دوپہر اور شام کے اسکول اور لوڈشیڈنگ نام کی کوئی چڑیا نہ تهی
بارش کی بوند گرتے ہی بجلی چلی جاتی تھی پھر بارش کے بعد آ بھی جاتی تهی
بلیک اینڈ وائٹ لکڑی کے ڈبوں میں ٹی وی ہوا کرتے تهے
سونی کے کلر ٹی وی اور 50 کلو والے سلور وی سی آر ایک دو گھروں میں ہی ہوتے تهے
انڈین فلمیں دیکھی جاتی تهیں وہ بھی مانگ تانگ کر
ابھی محلے میں کیسٹ رینٹل والی دکانوں اور ان سے نیفے میں کیسٹ چھپا کر لانے کا بھی رواج نہیں پڑا تها
ایک ہی چینل PTV
شام 4 سے 5 بجے بچوں کے پروگرام، 8 بجے ڈرامہ اور 9 بجے خبریں 10 بجے فرمان الہی اور پھر قومی ترانہ
وارث، ان کہی اور تنہائیاں جیسے ڈراموں کے وقت گلیاں سنسان، جمعرات ہاف ڈے اور جمعہ چهٹی ہوتی تهی۔
نئے کپڑے عید، بقرعید، شادی بیاہ اور صرف ضرورت کے وقت بنائے جاتے تهے، عید کے دن ایک رنگ اور ایک تھان سے خاندانی ٹیلر یا پھر اکثر نانی کے ہاتهوں سلے کپڑے پہننے کا رواج عام تها۔
عید والے دن لکڑی کی تلوار، منہ میں میٹھا پان، ایک ہاتھ میں مقامی سوڈا واٹر کی “بوتل” ( کہ اس دور میں کولڈ ڈرنک کا رواج نہیں ہوتا تھا )، اور دوسرے میں اگلو کنگ کون لینا
معراج ہوتی تھی
عید کی شام ہر محلے میں 3 کرکٹ ٹیمیں بڑے لڑکے، چھوٹے لڑکے اور بچے عصر کے بعد سے کھیل کود شروع ہوتا تھا اور مغرب کی اذان پر اختتام
سردیوں میں رات کو بیڈمنٹن اور اولمپکس وغیرہ کے زمانے میں ہاکی بھی کهیلی جاتی تهی
پتنگ بازی کا ایک دور، لٹو اور کنچوں کے “بین الگلی” ٹورنامنٹس عام تهے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر کو “پٹھو باری” بھی ہوتی تھی۔ اور رات گئے محلے کے جوان وانجو کھیلتے
کیا دور تھا سب کو سب کی فکر، سب کو سب کا خیال
سوائے بزرگوں کے، شادی شدگان بال بچے دار جوان بھی سگریٹ بچ بچا کر پیتے تھے کہ کوئی بزرگ دیکھ نہ لے
گلی محلے میں شادی کا مطلب پندرہ بیس دن پہلے سے پورے محلے میں ڈهولکی کی آواز، لڑکیوں کے کهنکتے قہقہے، لڑکوں کا پیسنہ پسینہ ہو کر کنکهیوں سے نظر کرنا اور پهر جهینپ کر خود ہی لال بهبوکا ہوجانا
دور پرے کے رشتہ داروں کی آمد اور ان کا مختلف گھروں میں قیام، گھر سے شادی، ہال وغیرہ میں دعوت سبکی کی بات سمجھی جاتی
، کسی کے گهر میت ہوجائے تو ہفتوں لوگ گلی میں ہنستے نہ تهے کہ کہیں پڑوسی گهر والوں کو دکھ نہ پہنچے
محرم الحرام کی مجلسوں میں بالوشاہی، حلیم اور امرتییاں کھانا سب کیلئے حلال تها
پانی کی سبیل، شب براءت کا حلوہ سب بناتے اور کهاتےتهے
اچھا وقت تھا….
خالص لوگ، خالص اشیاء، خالص ایمان، اس وقت نذر نیاز کهانے پینے اور ملنے جلنے سے ایمان خراب نہیں ہوتا تھا
پھر۔۔۔ ہم نے ترقی کرلی ---!!

Monday, September 24, 2018

"دنیا ایک تماشہ"


حضرت لعل شہباز قلندرؒ سرکار تشریف لے جا رہے تھے تو ایک ریچھ کو نچانے والا نظر آیا۔ پوچھا تم کون ہو تو بولا قلندر۔ اس دور میں ریچھ نچانے والے کو بھی قلندر کہتے تھے۔
آپؒ بے اختیار مسکرا دیے۔ یہ بات اس ریچھ والے کو پسند نہی آئ۔ کہنے لگا آپ کون ہیں۔ فرمایا میں بھی قلندر ہوں۔ کہنے لگا آپ کیسے قلندر ہیں نا آپ کے پاس ریچھ نہ ڈگڈگی تو تماشہ کیسے دکھائیں گے۔ فرمایا پہلے تم دکھاؤ پھر میں دکھاتا ہوں۔
ریچھ والے نے ڈگڈگی بجائ اور ریچھ کھڑا ہو کر ناچنے لگا۔ اس نے کہا اب آپکی باری۔
حضرت لعل شہباز قلندر رح دو درختوں کی ٹہنیوں پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا نیچے سے گذر جاؤ مگر یاد رکھنا آگے جانا مگر واپس کبھی مت آنا۔
جیسے ہی وہ نیچے سے گذرا ماحول ہی بدل گیا۔ نہ وہ سورج کی گرمی نہ گرد و غبار جہاں تک نظر دیکھے خوبصورت پہاڑ سبزا وادیاں۔ نہ موسم گرم نہ ٹھنڈا۔ ابھی اسی سوچ میں ہی تھا کے دیکھا ایک عظیم لشکر سپاہیوں کا گھوڑوں پر سوار تیزی سے اسکی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ گھبرا گیا کے آج تو جان گئ۔
پاس پہنچ کر لشکر رکا اور سپہ سالار آگے بڑھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ۔
سپہ سالار بولا: بادشاہ سلامت آپ کہاں غائب ہو گئے تھے۔آپ کی سلطنت آپکا انتظار کر رہی ہے اور ملکہ عالیہ کارو رو کے برا حال ہے۔
اب وہ حیران پریشان شاہی گھوڑے پر سوار ہو کر ساتھ چل دیا۔ جب محل پہنچا تو عظیم الشان امارت دیکھ کرحیران۔ اندر داخل ہوا تو خوب صورت ملکہ گلہ شکوہ کرتی لپٹ گئ۔ کہاں رہ گئے تھے آپ۔سب بھول کر نہا دھو کے شاہی پوشاک پہن کر تخت پر بیٹھ گیا۔
سالوں گذر گئے۔بچے ہوئے پھر شہزادے بڑے ہو گئے۔ بڑھاپا آ گیا جسم سے جان منہ سے ذائقہ چلا گیا۔ ایک دن اپنی سلطنت میں دریا کے  کنارے بیٹھے خیال آیا کہ آخر ہوا کیا تھا۔
اسی جستجو میں وہیں پہنچا جہا پر لشکر تھا تو دیکھا وہ درخت اب بھی موجود ہیں۔ سوچا چلو دیکھتے ہیں کیا اور درخت کے بیچ سے گذرا۔ ماحول بدل گیا۔وہی وقت وہی مقام سامنے اسکا ریچھ اور ڈگڈگی پڑی ہے وہی گرمی وہی گرد و غبار۔
پیچھے دیکھا تو حضرت لعل شہباذ قلندرؒ سرکار کھڑے تھے۔ اس کی حالت غیر ہو گئ بولا جناب میری سلطنت میری ملکہ میرے شہزادے۔۔ تو
آپ نے فرمایا سب تماشہ تھا۔



💦💦💦💦 دعاؤں کی طالب اُمتِ مسلمہ 💦💦💦💦

Tuesday, September 11, 2018

اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں....!!!


اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔ 

اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔

اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں، خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و با کردار سمجھے جاتے ہیں، تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نبی کا بھی بگڑ سکتا ہے اور بیوی تو پیغمبر کی بھی نافرمان ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی، کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنّے اور ہوشیار ہیں، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے بدقماشوں، جیب کتروں اور رہزنوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا تاکہ آپ ان کی ضرر رسانیوں سے بچے رہیں۔
:
الحمدللّٰہ مجھے مذکورہ بالا تمام نعمتیں میسر ہیں سوائے اس کے کہ ایک بار حیدرآباد میں ایک تھکا ہوا نوکیا موبائل جیب سے نکل گیا وہ بھی اس لیے کہ میرے ایک عزیز کا موبائل نکل جانے پر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ لوگ کیسے مست و مدھوش ہو کر چلتے ہیں کہ کوئی ان کی جیب سے موبائل لے اڑے، انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔ بس اگلے ہی دن میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگیا۔ من میں جھانکا تو اندر سے صدا آئی: اے ڈیڑھ ہوشیار! جب تقدیر کا لکھا سامنے آ جائے تو عقل کی چڑیا پرواز کر جایا کرتی ہے۔

یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔

دبئی میں ایک صاحب سے واسطہ پڑا۔ پہلے مجبور و پریشان تھے، پھر کنسٹرکشن کی کمپنی کھول لی۔ پر شکوہ آفس بنایا، سمجھیں کہ لاکھوں میں کھیلنے لگے۔ ملاقات کے لیے گیا تو ایک مشترک دوست کے بارے میں پوچھا، جو بیچارے مفلوک الحال رہا کرتے تھے۔ پھر کہنے لگے، وہ تو بڑے کم عقل انسان ہیں، ساری زندگی یوں ہی عسرت میں گزار دی۔ یہ کام کر لیتے وہ کام کر لیتے، وغیرہ وغیرہ۔
کوئی دس بارہ سال کا وقفہ آگیا، ہماری ملاقات نہ ہوئی۔ پھر ایک دن کسی کام سے ان کے آفس جانا ہوا۔ خود نہیں تھے بلکہ پورا اسٹاف ہی بدلا نظر آیا۔ میں نے موصوف کا نام لے کر پوچھا کہ کہاں گئے، پہلے تو یہ ان کا آفس تھا؟ بتایا گیا، مرحوم ہو چکے۔ پھر تفصیل بتائی جو کچھ یوں تھی کہ کاروبار میں نقصان ہونے کی وجہ سے پیچھے ہوتے چلے گئے پھر مقروض اور نادہندہ بن کر جیل پنہچ گئے۔ چیک باؤنس کیس میں سزا ہوئی اور اُسی سزا کے دوران جیل ہی میں انتقال کر گئے، اس حال میں کہ فیملی پاکستان میں تھی، نہ کوئی عزیز قریب  تھا نہ کوئی فیملی میمبر۔

یہ خبر سنتے ہی میرے سامنے دس سال قبل کا اسی کمرے کا منظر گھوم گیا جہاں گول گھومتی کرسی پر بیٹھ کر مرحوم ایک سادا اور خدا مست درویش کی مالی ابتری کا مذاق اڑا رہے تھے۔ بادشاہ کو فقیر بنتے دیر نہیں لگتی، سن رکھا تھا مگر بچشمِ خود دیکھا اس دن تھا۔

اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:

اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔

دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔

سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے۔ زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ اس کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موصلہ دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلشن بنا  دے گی۔
قمر تارڑ 

امن کے ساتھ جینا کمال ھے


ابوسعید ابوالخیر سے کسی نے کہا؛ ’’کیا کمال کا انسان ھو گا وہ جو ھوا میں اُڑ سکے۔‘‘
ابوسعید نے جواب دیا؛ ’’یہ کونسی بڑی بات ھے، یہ کام تو مکّھی بھی کر سکتی ھے۔‘‘

’’اور اگر کوئی شخص پانی پر چل سکے اُس کے بارے میں آپ کا کیا فرمانا ھے؟
’’یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ھے کیونکہ لکڑی کا ٹکڑا بھی سطحِ آب پر تیر سکتا ھے۔‘‘

ؔؔ’’تو پھر آپ کے خیال میں کمال کیا ھے؟‘‘
’’میری نظر میں کمال یہ ھے کہ لوگوں کے درمیان رھو اور کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔
جھوٹ کبھی نہ کہو، کسی کا تمسخر مت اُڑاؤ۔ کسی کی ذات سے کوئی ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ، یہ کمال ھیں۔
یہ ضروری نہیں کہ کسی کی ناجائز بات یا عادت کو برداشت کیا جائے، یہ کافی ھے کہ کسی کے بارے میں بن جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔

یہ لازم نہیں ھے کہ ھم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں، یہ کافی ھے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
یہ ضروری نہیں کہ ھم دوسروں کی اصلاح کریں، یہ کافی ھے کہ ھماری نگاہ اپنے عیوب پر ھو۔
حتّیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ھم ایک دوسرے سے محبّت کریں، اتنا کافی ھے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ھوں۔
دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا کمال ھے۔‘‘
حکایاتِ فارسی

دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا کمال ھے
قمر

خون کی گرمی



ایک بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا، چونکہ سردی کا دن تھا اس لئے بادشاہ کا دربار کھلے میدان میں ہی لگا ہوا تھاسب خواص و عوام صبح کی دھوپ میں بیٹھے تھے۔بادشاہ کے تخت کے سامنے ایک میز تھی اور اس پر کچھ قیمتی اشیا رکھی تھیں۔وزیر ، مشیر اور امرا وغیرہ سب دربار میں بیٹھے تھے ، بادشاہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔اسی وقت ایک شخص آیا اوردربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔اجازت مل گئی تو اس نے کہا "میرے پاس دو اشیاء ہیں ، میں ہرملک کے بادشاہ کے پاس گیا ہوں اوراپنی اشیاء کو بادشاہ کے سامنے رکھتا ہوں پر کوئی فرق جان نہیں پاتا ، تمام ہارچکے ہیں اور میں ہمیشہ کامران و کامیاب ہو کرلوٹتا ہوں "اب آپ کے ملک میں آیا ہوں بادشاہ نے کہا "کیا اشیاء ہیں ؟"تو اس نے دونوں اشیاء بادشاہ کے سامنے میز پر رکھ دیں۔وہ دونوں اشیاء رکھنے میں بالکل ایک جیسی جسامت، یکساں رنگ، یکساں چمک گویا کہ یہ دونوں اشیاء ایک دوسرے کی نقل محسوس ہوتی تھیں۔بادشاہ نے کہا یہ دونوں اشیاء تو بالکل ایک جیسی ہیں. تو اس شخص نے کہا جی ہاں دکھائی تو ایک سی ہی دیتی ہیں لیکن ہیں مختلف۔ان میں سے ایک ہے بہت قیمتی ہیرا اور ایک ہے شیشہ۔بظاہر یہ دونوں ایک سے ہیں ، کوئی آج تک یہ نہیں پہچان سکا کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا شیشہ۔کوئی جانچ کر بتائے کہ ان میں سے ہیرا کونسا ہے اور کونسا شیشہ ؟اگر کوئی صحیح پہچان گیا اور میں ہار گیا تو یہ قیمتی ہیرا آپ کا ہو جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پہچان نہیں پایا تو اس ہیرے کی جو قیمت ہے اتنی رقم آپ کو مجھے بطور انعام دینا ہوگی۔اسی طرح میں کئی ممالک سے جیت کرآیا ہوں۔بادشاہ نے کہا میں تو نہیں پہچان سکتا ، وزیر و مشیر بولے ہم بھی جانچ نہیں سکتے کیونکہ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔سب کو گمان تھا کہ اب تو شکست ہی مقدر ہے لیکن شکست پر انعام کا مسئلہ بھی نہیں تھا ، کیونکہ بادشاہ کے پاس بہت دولت تھی، بادشاہ کی عزت کا مسئلہ تھا کیونکہ تمام عالم میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا بہت ذہین ہے اور اس طرح اْن کی سْبکی ہوتی۔ کوئی شخص بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔آخر کار تھوڑی سی ہلچل ہوئی۔ ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لے کر اٹھا ، اس نے کہا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو میں نے تمام باتیں سنی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کوئی پہچان نہیں پا رہا ہے ایک موقع مجھے بھی دیں۔ایک آدمی کے سہارے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اس نے بادشاہ سے درخوست کی کہ ایسے تو میں پیدائشی نابینا ہوں لیکن پھر بھی مجھے ایک موقع دیا جائے جس میں بھی ایک بار اپنی ذہانت کوجانچ سکوں اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب بھی ہو جاؤں اور اگر کامیاب نہ بھی ہوا تو ویسے بھی آپ تو ہارے ہوئے ہی ہیں۔بادشاہ کو محسوس ہو کہ اسے موقع دینے میں کیا حرج ہے۔بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔اس نابینا شخص کو دونوں چیزیں چھو نے کے لیے دے دی گئیں اور پوچھا گیا ،اس میں کون سا ہیرا ہے ؟اور کون سا شیشہ؟یہی آپکو معلوم کرنا ہے۔اس آدمی نے ایک لمحے میں کہہ دیا کہ یہ ہیرا ہے اور یہ شیشہ۔جو آدمی اتنے جگہوں سے جیت کر آیا تھا وہ بہت حیران ہو گیا اورکہا"ٹھیک ہے آپ نے صحیح پہچانا آپکو مبارک ہو۔ اپنے وعدہ کے مطابق اب یہ ہیرا بادشاہ کا ہوا "تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایک نابینا شخص نے کیسے جان لیا کہ اصل ہیرا کونسا ہے اور سب نے یہی سوال اس نابینا شخص سے کیا۔اس نابینا شخص نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے دھوپ میں ہم سب بیٹھے ہیں ، میں نے دونوں کو چھو کر محسوس کیا۔جو ٹھنڈا رہا وہ ہیراجو گرم ہو گیا وہ شیشہ اسی طرح زندگی میں بھی جو شخص سخت اور مشکل حالات میں گرم ہو جائے اور حالات کا سامنا نہ کر سکے وہ شیشہ کی مانند ہے اور جو تمام حالات میں ٹھنڈا رہے ہو ہی…

برکت کیا ہے؟


🍀 برکت کو بیان نہیں،
محسوس کیا جاسکتا ہے۔

🍀 جب آپ آمدنى و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی تناؤ کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔

🍀 پھر چاہے آپ کی آمدنى ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔

🍀 اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

🍀 اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وہ دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔

🍀 اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وہ کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

🍀 برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔

🍀 انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ رہ جاتی ہے۔

🍀 برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔

🍀 وہ تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

🍀 برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔

🍀 وہ اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیرہ نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔

🍀 برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔

🍀 ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندر اندر پوری ہوجائیں۔

🍀 یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔

🍀 وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیادہ اور نتیجہ خیز کام کر سكيں،

🍀 آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نا ہو۔

🍀 اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نا ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

🍀 کم کھانا، زیادہ افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔

🍀 آپ کی کم محنت کا پھل زیادہ آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

🍀 یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’خاص انعام‘‘ ہے

🍀 برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔

🍀 آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

🍀 بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔

🍀 کیوں کہ نبی ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ میری امت کے لیے دن کے اولین حصے میں برکت رکھ دی گئی ہے۔

🍀 اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔

🍀 اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

🍀 کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو 
تو اس کی سادہ لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔
قمر